ابنا: ارنا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ کوئي بھی ملک شام کے عوام کی جگہ فیصلہ نہیں کر سکتا۔
حسین امیر عبداللہیان نے مزید کہا کہ امریکیوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے افراد کو بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لیے شام منتقل کیا تھا لیکن کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ انہوں نے عراق اور افغانستان میں اپنی غلطیوں جیسی ایک بڑی غلطی کر دی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ افسوس علاقے میں ہمارے بعض دوستوں نے عجلت کا مظاہرہ کیا، مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام میں ایک منصوبہ بند سازش پر عمل کیا البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شام میں ایک جمہوری صورت حال تھی۔ شام میں بھی بہت سے عرب ممالک کے مانند اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن اس ملک کے عوام کو اپنے ملک کے سیاسی نظام کے بارے میں خود فیصلہ کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
حسین امیر عبداللہیان نے مزید کہا کہ امریکیوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے القاعدہ کے افراد کو بشار اسد کی حکومت کو گرانے کے لیے شام منتقل کیا تھا لیکن کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دیکھا کہ انہوں نے عراق اور افغانستان میں اپنی غلطیوں جیسی ایک بڑی غلطی کر دی ہے۔ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے یہ بات بیان کرتے ہوئے کہ افسوس علاقے میں ہمارے بعض دوستوں نے عجلت کا مظاہرہ کیا، مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شام میں ایک منصوبہ بند سازش پر عمل کیا البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ شام میں ایک جمہوری صورت حال تھی۔ شام میں بھی بہت سے عرب ممالک کے مانند اصلاحات کی ضرورت ہے لیکن اس ملک کے عوام کو اپنے ملک کے سیاسی نظام کے بارے میں خود فیصلہ کرنا چاہیے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲